Thread Reader

--عفت نفس-- انسان کے عظيم ترين اخلاقي صفات ميں ايک صفت عفت نفس بھي ہے جس کا تصور عام طور سے جنس سے وابستہ کر ديا جاتا ہے، حالانکہ عفت نفس کا دائرہ اس سے کہيں زيادہ وسيع تر ہے اور اس ميں ہر طرح کي پاکيزگي اور پاکداماني شامل ہے - ⬇️ #اپنا_قلمکار #مرشد

قرآن مجيد نے اس عفت نفس کے مختلف مرقع پيش کيے ہيں اور مسلمانوں کو اس کے وسيع تر مفہوم کي طرف متوجہ کيا ہے ⬇️
وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ۔ (یوسف-23) ⬇️
اور زليخا نے يوسف کو اپني طرف مائل کرنے کي ہر امکاني کوشش کي اور تمام دروازے بند کرکے يوسف کو اپني طرف دعوت دي ليکن انہوں نے برجستہ کہا کہ پناہ بخدا وہ ميرا پروردگار ہے اور اس نے مجھے بہترين مقام عطا کيا ہے اور ظلم کرنے والوں کے ليے فلاح اور کاميابي نہيں ہے۔ ⬇️
ايسے حالات اور ماحول ميں انسان کا اس طرح دامن بچا لينا اور عورت کے شکنجے سے آزاد ہو جانا عفت نفس کا بہترين کارنامہ ہے، اور الفاظ پر دقت نظر کرنے سے يہ بھي واضح ہوتا ہے کہ يوسفؑ نے صرف اپنا دامن نہيں بچا ليا بلکہ نبي خدا ہونے کے رشتہ سے ہدايت کا فريضہ بھي انجام دے ديا اور ⬇️
زليخا کو بھي متوجہ کر ديا کہ جس نے اس قدر شرف اور عزت سے نوازا ہے وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس کے احکام کي اطاعت کي جائے اور اس کے راستے سے انحراف نہ کيا جائے اور يہ بھي واضح کرديا ہے کہ اس کي اطاعت سے انحراف ظلم ہے اور ظلم کسي وقت بھي کامياب اور کامران نہيں ہو سکتا ہے۔⬇️
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْۚ ⬇️
لَا یَسْــٴَـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠- ان فقراء کے ليے جو راہ خدا ميں محصور کر ديے گئے ہيں اور زمين ميں دوڑ دھوپ کرنے کے قابل نہيں ہيں، ناواقف انھيں ان کي عفت نفس کي بنا پر مالدار کہتے ہيں حالانکہ تم انہيں ان ⬇️
کے چہرے کے علامات سے پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں کے سامنے دست سوال نہيں دراز کرتے ہيں حالانکہ تم لوگ جوبھي خير کا انفاق کرو گے خدا تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔ جنسی پاکدامنی کے علاوہ یہ عفت نفس کا دوسرا مرقع ہے جہاں انسان بد ترین فقر و فاقہ کی زندگی گذارتاہے جس کا اندازہ حالات ⬇️
اور علامات سے بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود اپنی غربت کا اظہار نہیں کرتاہے اور لوگوں کے سامنے دست سوال نہیں دراز کرتا ہے کہ یہ انسانی زندگی کا بدترین سودا ہے۔ دنیا کا ہر صاحب عقل جانتا ہے کہ آبرو کی قیمت مال سے زیادہ ہے اور مال آبرو کے تحفظ پر قربان کر دیا جاتاہے۔ ⬇️
بنابریں آبرو دے کر مال حاصل کرنا زندگی کا بد ترین معاملہ ہے جس کے لیے کوئی صاحب عقل و شرف امکانی حدود تک تیار نہیں ہوسکتا ہے۔ اضطرار کے حالات دوسرے ہوتے ہیں وہاں ہر شرعی اور عقلی تکلیف تبدیل ہو جاتی ہے۔ ⬇️
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔ (الفرقان-63) اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر (فروتنی سے) دبے پاؤں چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے گفتگو کریں تو کہتے ہیں سلام۔ ⬇️
وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا (الفرقان-73) اور (عباد الرحمن وہ ہیں) جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ باتوں سے ان کا گزر ہوتا ہے تو شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔ ⬇️
ان فقرات سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عباد الرحمان میں مختلف قسم کی عفت نفس پائی جاتی ہے۔ جاہلوں سے الجھتے نہیں ہیں اور انھیں بھی سلامتی کا پیغام دیتے ہیں۔ رقص و رنگ کی محفلوں میں حاضر نہیں ہوتے ہیں اور اپنے نفس کو ان خرافات سے بلند رکھتے ہیں۔ ان محفلوں کے قریب سے بھی ⬇️
گذرتے ہیں تو اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اور شریفانہ انداز سے گذر جاتے ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو بھی یہ احساس پیدا ہوکہ ان محفلوں میں شرکت ایک غیر شریفانہ اور شیطانی عمل ہے ⬇️
جس کی طرف شریف النفس اور عباد الرحمان قسم کے افراد توجہ نہیں کرتے ہیں اور ادھر سے نہایت درجہ شرافت کے ساتھ گذر جاتے ہیں۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ وسَهِّلْ مَخْرَجَهُمْ والعَنْ أعْدَاءَهُم
Вир Хассан ویر حسن
عَلِيّ أَمِيرِي وَنِعْمَ الأمَير #اپنا_قلمکار
Follow on Twitter
Missing some tweets in this thread? Or failed to load images or videos? You can try to .